عوضی کفاره کیا ہے؟

 باغِ عدن سے لے کر آج کے اِس دن تک، انسان کا بنیادی مسئلہ ہمیشہ سے ہی گناه رہا ہے، اِس کی تباه کُن  طاقت، دنیا میں اس

 کی وسیع موجودگی، اور الہی عدالت میں اس کا انِجام وه سزا ہے جس سے بچا نہیں جا سکتا۔گناه کی سزا کا عِوضانہ کفاره یہ

 وه تعلیم ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ خدا نے یسوع مسیح کی موت کے وسیلہ سے کیسے گنہگاروں کو گناه اور اسِ کے انِجام

 سے بچایا، اور خاص طور پر خدا نے گناه کے خلاف اپنے نا ختم ہونے والے اور  ایسے  قہر و غضب سے، جس سے بچنا

 ناممکن ہے، کیسے گناہگاروں کو بچایا (متی ١: ٢١)۔ اسِ تعلیم کو اپنی روزمره کی زندگیوں میں محفوظ کرنے کے لئے، ہمیں

 سمجھنا ہو گا کہ ہمارے لیے یسوع مسیح کی موت میں وه کون سی خوبصورت سچائیاں ہیں جو ہم اس تعلیم میں سیکھ سکتے

 ہیں۔

 

 یسوع مسیح کی موت وه سزا تھی۔

 اپنی موت میں ، مسیح یسوع نے انسانوں کے گناه کی سزا کو اپنے اوُپر لے لیا، جبکہ وه خُود بےگناه تھا۔ بائبل مقدّس ہمیں

 واضح طور پر سکھاتی ہے کہ گناه پاک، راست اور ابدی خدا کی بغاوت و مخالفت ہے، اور جو کہ  اسِ وقت میں بھی اور ابدیت

 میں بھی خدا کے پاک قہر و غضب کی مستحق ہے (رومیوں ١:١٨، رومیوں ٢: ۵-۶)۔ اور برُی خبر یہ ہے، اس لئے کے سب

 نے گناه کیا ہے اور سب خدا کے راست قہر و غضب کے نیچے ہیں ( رومیوں ٣:٢٣، یوحنا ٣: ١٨-١٩)۔ اور خوشخبری یہ ہے

 کہ گناه کے باعث وه سزا اور قہر و غضب جو ہم نے سہنا تھا مسیح یسوع نے انُ کے لیے سہہ لیا جو اپنے گناہوں کا اقرار

 کرتے اور جو یسوع مسیح کے اوُپر ایمان لے کے آتے ہیں۔ بائبل مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ وه ہماری خطاؤں کے سبب سے کچلا

 گیا اور ہماری بدکرداری کے باعث گھائل کیا گیا (یسعیاه ۵٣: ۵)۔

 

 یسوع مسیح کی موت عِوضانہ تھی۔

  کیونکہ یسوع مسیح نے بے گناه زندگی گزاری، اور اسُکا اپنا کوئی بھی گناه نہیں تھا کہ جس کی اسُکو قیمت ادا کرنی پڑتی۔

 حیران کُن بات یہ ہے کہ یسوع مسیح کی موت میں، یسوع مسیح گناه کے خلاف خدا کے قہر و غضب کو نالائق اور غیر مستحق

 لوگوں کے عوض برداشت کرتا ہے۔ مسیح یسوع آپ ہمارے گناہوں کو اپنے بدن پر لئے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا ۔۔۔(١ پطرس ٢:٢۴) اور ہماری بدکرداری کے باعث گھائل کیا گیا ( یسعیاه ۵٣:۵)۔ ہمارے خداوند نے بھی یعنی راستباز نے ناراستوں کے

 لیے ایک بار دُکھ اٹھایا تا کہ ہم کو خدا کے پاس پہنچائے (١ پطرس ٣:١٨)۔ اپنی موت میں یسوع مسیح نے ہماری خاطر دکھ

 برداشت کیا جو اسُ پر ایمان رکھتے ہیں۔ وه سزا جس کے حقدار ہم تھے ہماری جگہ پر ہمارے عوض اسُ نے اسُ سزا و قہر و

 غضب کو برداشت کیا۔

 

 یسوع مسیح کی موت کفاره تھی۔

 یسوع مسیح کی موت گناه کی بیماری کا کوئی نیم علاج نہیں تھی۔ یسوع مسیح کی موت میں، یسوع مسیح نے خدا کے پاک اور

 راست قہر و غضب کو کامل طور پر ٹھنڈا کیا۔یسوع مسیح کی موت  نے مکمل طور پر اور ابدی طور پر ہمارے گناہوں کے

 جرم کو ڈھانپ دیا (عبرانیوں ١٠: ١-١٨)۔ جیسا کہ خدا کا قہر و غضب اسُ کے بے گناه بیٹے پر سےختم ہو گیا، لہٰذا یسوع

 مسیح کی موت  گنہگار کے اسکے باپ کے ساتھ ٹوٹے ہوئے رشتے کو بحال کرتی ہے۔ اور بے شک مسیح مُوا تا کہ ہمیں خدا

 سے ملا سکے ( ١ پطرس ٣:١٨)۔

 

 یسوع مسیح کی موت آپکی روزمره کی زندگی کے لیے۔

 بائبل مقدس کے مطابق گناه کی سزا کے لیے مسیح یسوع کا عِوضانہ کفاره، یہ تعلیم مسیحی خوشخبری میں دل کی حیثیت

 رکھتی ہے۔ تاہم مسیحیوں کے لیے حقیقتاً یہ وه تعلیم ہے جس کے لئے انہیں  ہر روز خوش ہونا چاہیے۔ جیسا کے ہم اپنے ابدی

 گھر کی جانب مسافرت میں ہیں، تو اسِ سفر میں ہم لگاتار  اپنے اندر کے گناه کے ساتھ جو ہمارے اندر سرائیت کرتا ہے 

اور   ہمارے ارِدگرد گناه کے اثر کے خلاف بھی لگاتار جنگ میں ہیں۔ جیساکہ جان اوون اپنے الفاظ کے ذریعے ہمیں خبردار کرتے

 ہیں کہ (گناه کو ختم کرتے رہو نہیں تو یہ تمہیں ختم کردے گا)۔ جیسا کہ ہم پاکیزگی میں بڑھنے کے اسِ غیر کامل سفر میں

 کاوِش و محنت کر رہے ہیں، لہٰذا اسِ سفر میں ہمیں بالکل بھی خدا کے سامنے موجود ہونے اور ہمارے لئے اسُکی محبتّ کو

 لے کے شک  نہیں کرنا اور مایوس نہیں ہونا، اور غیر محفوظ محسوس نہیں کرنا۔کیونکہ ہمارے گناہوں کی قیمت ہمیشہ کے

 لئے ایک ہے بار دے دی گئی ہے، اور یسوع مسیح  کا عِوضانہ کفاره وه قیمت ہے اور اسِ  میں باپ کی حقیقی اور غیر متزلزل

 محبت کا ثبوت گناه کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے اور دُکھ اٹُھانے والے گنہگاروں کے لئے ملتا ہے (رومیوں ۵:٨)۔

 

 بچوں کے لئے۔

 کیا ہوتا ہے جب آپ کچھ غلط کرتے ہیں، جیسا کہ اپنے والدین کی نافرمانی کرنا یا انُ سے جُھوٹ بولنا؟ کیا آپ ایسا کرنے سے

 کسی مشکل میں پڑ جاتے ہیں؟ کیا جو آپ غلط کرتے ہیں کیا آپ کو اسُکی سزا مِلتی ہے؟ مگر سچائی یہ ہے کے ایک بڑی سزا

 آ رہی ہے ہر ایک اسُ برُی بات اور کام کے لئے جو ہم کرتے ہیں۔ خدا کامل طور پر اچھا خدا ہے اور کسی بھی برُی بات کو

 اور برُے کام کو بے سزا نہیں چھوڑے گا۔ برُی خبر یہ ہے کہ ہم سب نے کچھ نا کچھ برا کیا ہوا ہے جو کے خدا کی سزا کے

 لائق ہے۔ لیکن خوشی کی خبر یہ ہے کہ خدا ہم سے محبت کرتا ہے جب کہ وه ان کاموں اور باتوں سے نفرت کرتا ہے جو ہم

 اسُ کے خِلاف کرتے ہیں، لہٰذا اسُ نے یسوع مسیح کو بھیجا ہمیں اسُ سزا سے بچانے کے لئے جس کے ہم حقدار اور لائق

 تھے۔

  جب یسوع مسیح نے صلیب پر اپنی جان دی، تو یسوع مسیح کو خدا باپ نے ہماری جگہ پہ وه سزا دی تا کہ ہمیں وه سزا سہنی

 نا پڑے۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ آپ نے کچھ غلط کیا اور آپکو سزا ملنے والی ہے اور فوراً سے آپکا دوست آتا ہے اور کہتا ہے کہ وه آپکے حصے کی سزا لے گا؟ اس سے ثابت ہو گا کہ آپکا دوست آپ سے کتنی محبت کرتا ہے! لہٰذا،یسوع مسیح نے

 کچھ ایسا ہی ہمارے لئے کیا۔ اپنے گناہوں سے مڑنا اور یسوع مسیح پر ایمان لانے سے، ہمیں گناہوں سے معافی ملتی ہے، اور

 گناه کی سزا سے بھی بچ جاتے ہیں جس کے ہم حقدار ہیں، اور ایمان ہی کے وسیلہ سے ہم خدا کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ره سکتے ہیں۔

original: https://ftc.co/resource-library/articles/penal-substitutionary-atonement/